بھٹکل 4 مئی (ایس او نیوز) عید الفطر کے موقع پر اکثر بھٹکلی حضرات گلف سمیت ملک کے دیگر شہروں سے چھٹیاں لے کرواپس اپنے وطن بھٹکل پہنچتے ہیں اور عید الفطر کی خوشیاں اپنے گھروالوں کے ساتھ مناتے ہیں۔ ایک وقت تھا بھٹکل کے عوام عید الفطر کی شام اورعید کے دو تین دن تک تفریح کے لئے مرڈیشور بیچ پہنچتے تھے، مگر اب بھٹکل کا جالی بیچ سیاحت کا اہم مرکز بن گیا ہے اور یہاں ہزاروں لوگ شام ہوتے ہی سمندر کنارے تازہ ہوا کھانے اور سمندری موجوں کے ساتھ کھیلنے کے لئے پہنچ جاتے ہیں
بھٹکل جالی بیچ کے ساتھ سینکڑوں لوگ نستار بیچ اور تیگن گنڈی بیچ بھی پہنچ رہے ہیں اور سمندرسے اُونچی اُٹھتی لہروں سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔ عید کے دن اور عید کے اگلے دو دن تک ان سمندری کناروں پر عوام کی زبردست بھیڑ دیکھی گئی ہے اور لوگوں کو جوق درجوق ان سمندری کناروں پر تفریح کے لئے پہنچتے دیکھا گیا ہے۔
دیکھا گیا ہے کہ لوگ عصر کی نماز کے بعد فیملی اور بچوں کے ساتھ سمندر کنارے پہنچتے ہیں اور مغرب کی اذان سے آدھے گھنٹہ پہلے ہی اپنے اپنے گھروں کی طرف لوٹنے لگتے ہیں۔ بھٹکل میں اس بار رمضان سمیت عید کے موقع پر بھی شدت کی گرمی سے لوگوں کا حال بے حال ہے، درجہ حرارت ویسے تو 30 اور 34 ڈگری سیلسیس دکھارہا ہے، مگر یہاں نمی کا تناسب 75 فیصد ہونے کی وجہ سے گرمی کی شدت 45 ڈگری سے بھی زائد محسوس کی جارہی ہے، ایسے میں بھٹکل کے زیادہ تر لوگ مرڈیشور یا دور دراز کے علاقوں کی سیر کرنے کے بجائے بھٹکل میں ہی موجود سمندری کناروں کی سیر کرتے ہوئے اور سمندری موجوں اور تازہ ہواوں سے لطف اندوز ہوتے دیکھے گئے ہیں۔
مرڈیشور ویسے تو ملک بھر میں سیاحت کے لئے مشہور ہے، ریاست کے مختلف شہروں سمیت ملک کے مختلف علاقوں سے بھی لوگ مندر میں پوجاپاٹ کے بعد مندر کے اطراف سمندری لہروں سے کھیلنے کے لئے پہنچتے ہیں، مگر اس بار عید کے موقع پر یہاں مسلمانوں کی تعداد نہ کے برابررہی۔ البتہ مرڈیشور کے درگاہ روڈ پر مرڈیشور جماعت آفس کے قریب سمندر کنارے قائم کئے گئے پارک میں مرڈیشور اور منکی کے مسلمان کثیر تعداد میں تفریح کرتے اور سمندری موجوں سے لطف اندوز ہوتے نظر آئے۔
بتاتے چلیں کہ بھٹکل بس اسٹائنڈ سے جالی، نستار اور تینگن گنڈی بیچ پانچ سے سات کلو میٹر کے فاصلے پر ہے، جبکہ مرڈیشور بیچ قریب 18 کلو میٹر دور ہے۔